اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔ رات گئے جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈا میں امریکی جاسوس طیارے نے گھر پر دو میزائل داغے۔ ذرائع کے مطابق ڈرون حملے میں اہم طالبان کمانڈر ملا نذیر اپنے آٹھ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا، ڈرون حملے میں گھربھی مکمل طورپرتباہ ہوگیا۔جنوبی وزيرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ نے کہا ہے کہ ڈرون حملہ ایک گاڑی پر کیا گیا جس پر سوار ہوکر ملا نذیر اور ان کے کئی ساتھی برمل سے سرا کنڈہ جارہے تھے۔ ملا نذیر پر ہونے والے حملے ميں رپا خان نامی سینئر طالبان کمانڈر سمیت 9 مزيد افراد مارے گئے۔ ملانذیر کی نماز جنازہ جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم وارسک میں ادا کی گئی اور انہیں سپرد خاک کیا گیا۔دوسرا میزائل حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے علاقے مبارک شئی میں ہوا جہاں امریکی جاسوس طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ڈرون حملے میں چار میزائل فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں تین افراد موقع پر جاں بحق اور گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ ابھی امدادی کارروائیاں جاری تھیں کہ ڈرون طیارے نے ایک اور میزائل فائر کردیا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق آج علی الصبح امریکیوں نے ایک ڈرون حملہ شمالی وزيرستان کے علاقے مبارک شئی میں کیا گیا۔ اس حملے میں ایک گاڑی پر 4 میزائل فائر کئے گئے جس کے نتیجے میں حکیم اللہ محسود کا ساتھی فیصل خان اور ایک ازبک کمانڈر مارے گئے۔ علاقے میں جاسوس طیارے کی پروازیں جاری ہیں جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔واضح رہے کہ ملا نذیر پاکستان میں دہشت گردی کے بجائے افغانستان میں امریکیوں کے خلاف لڑنے کا قائل تھا جس کی وجہ سے اس گذشتہ سال 30 نومبر کو "طالبان کے ایک خودکش حملے کا نشانہ بننا پڑا تھا" جس میں سات افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے میں ملا نذیر کے دائیں ہاتھ اور دائیں ٹانگ کو چوٹ آئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں احمد زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے مولوی نذیر کا شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ اور شوری اتحاد المجاہدین سے قریبی تعلق تھا۔ ابتدا میں یہ اپنے علاقے میں بیت اللہ محسود کے نمائندے سمجھے جاتے تھے لیکن تحریک طالبان کے اندر اختلافات کے باعث الگ ہو کر حافظ گل بہادر کے ساتھ مل گئے اور اب افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کو اپنا رہنما قرار دیتے ہیں۔ مولوی نذیر گروپ کے نو بڑے رہنماوں کے قتل کا الزام تحریک طالبان پر لگایا گیا جبکہ انہوں نے 2007میں اپنے علاقے میں طاہر یلدوشیف کی قیادت میں مقیم ازبک جنگجوﺅں کو نکالنے کے لیے ایک بڑی جنگ لڑی۔ مولوی نذیر گروپ کو پاکستان کے حامی طالبان میں شمار کیا جاتا تھا۔ 2008 میں وانا میں مقامی طالبان سربراہ مولوی نذیر کی سربراہی میں وزیر قبیلے نے سکیورٹی فورسز کی معاونت سے وہاں موجود ازبک جنگجوﺅں کے خلاف آپریشن کیا تھا اس آپریشن کے بعد حکومت طالبان امن معاہدہ عمل میں آیا تھا۔ ملانذیرکو اس سے پہلے بھی خودکش حملے کے ذریعے قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ ایک بار وہ ڈرون حملے میں بھی بال بال بچ گئے تھے۔ ملا نذیر وانا امن کمیٹی کے سربراہ ہیں 2007 ءمیں انہوں نے حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا جس پروہ اب بھی قائم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
2 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 378140
جنوبی وزیر ستان میں امریکیوں کے ڈرون حملے میں اہم طالبان کمانڈر ملا نذیر کو 9ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا اور شمالی وزیرستان میں اسی طرح کے ایک حملے میں حکیم اللہ محسود کے ساتھی کمانڈر سمیت 4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔